کوئی محبوب ستم گر بھی تو ہو سکتا ہے

سراجؔ عالم زخمی

کوئی محبوب ستم گر بھی تو ہو سکتا ہے

سراجؔ عالم زخمی

MORE BYسراجؔ عالم زخمی

    کوئی محبوب ستم گر بھی تو ہو سکتا ہے

    پھول کے ہاتھ میں خنجر بھی تو ہو سکتا ہے

    ایک مدت سے جسے لوگ خدا کہتے ہیں

    چھو کے دیکھو کہ وہ پتھر بھی تو ہو سکتا ہے

    مجھ کو آوارگئ عشق کا الزام نہ دو

    کوئی اس شہر میں بے گھر بھی تو ہو سکتا ہے

    کیسے ممکن کہ اسے جاں کے برابر سمجھوں

    وہ مری جان سے بڑھ کر بھی تو ہو سکتا ہے

    صرف ساون تو نہیں آگ لگانے والا

    جون کی طرح دسمبر بھی تو ہو سکتا ہے

    چاک دامن سے مرے مجھ کو برا مت سمجھو

    کوئی یوسف سا پیمبر بھی تو ہو سکتا ہے

    صرف چہروں پہ لطافت کوئی موقوف نہیں

    چاند جیسا کوئی پتھر بھی تو ہو سکتا ہے

    تم سر راہ ملے تھے تو کبھی پھر سے ملو

    حادثہ شہر میں اکثر بھی تو ہو سکتا ہے

    سارا الزام جفا اس پہ کہاں تک رکھوں

    یہ مرا اپنا مقدر بھی تو ہو سکتا ہے

    کیا ضروری ہے کہ ہم سر کو جھکائیں زخمیؔ

    ایک سجدہ مرے اندر بھی تو ہو سکتا ہے

    مأخذ :
    • کتاب : Lahja bolta hai (Pg. 150)
    • Author : Siraj Alam Zakhmi
    • مطبع : Gulistan-e-adab (2015)
    • اشاعت : 2015

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے