کوئی پتھر ہی کسی سمت سے آیا ہوتا

راج نرائن راز

کوئی پتھر ہی کسی سمت سے آیا ہوتا

راج نرائن راز

MORE BYراج نرائن راز

    کوئی پتھر ہی کسی سمت سے آیا ہوتا

    پیڑ پھل دار میں اک راہ گزر کا ہوتا

    اپنی آواز کے جادو پہ بھروسا کرتے

    مور جو نقش تھا دیوار پہ ناچا ہوتا

    ایک ہی پل کو ٹھہرنا تھا منڈیروں پہ تری

    شام کی دھوپ ہوں میں کاش یہ جانا ہوتا

    ایک ہی نقش سے سو عکس نمایاں ہوتے

    کچھ سلیقے ہی سے الفاظ کو برتا ہوتا

    لذتیں قرب کی اے رازؔ ہمیشہ رہتیں

    شاخ صندل سے کوئی سانپ ہی لپٹا ہوتا

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    کوئی پتھر ہی کسی سمت سے آیا ہوتا نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY