کوئی پوچھے مرے مہتاب سے میرے ستاروں سے

یاسمین حمید

کوئی پوچھے مرے مہتاب سے میرے ستاروں سے

یاسمین حمید

MORE BYیاسمین حمید

    کوئی پوچھے مرے مہتاب سے میرے ستاروں سے

    چھلکتا کیوں نہیں سیلاب میں پانی کناروں سے

    مکمل ہو تو سچائی کہاں تقسیم ہوتی ہے

    یہ کہنا ہے محبت کے وفا کے حصہ داروں سے

    ٹھہر جائے در و دیوار پر جب تیسرا موسم

    نہیں کچھ فرق پڑتا پھر خزاؤں سے بہاروں سے

    بگولے آگ کے رقصاں رہے تا دیر ساحل پر

    سمندر کا سمندر چھپ گیا اڑتے شراروں سے

    مری ہر بات پس منظر سے کیوں منسوب ہوتی ہے

    مجھے آواز سی آتی ہے کیوں اجڑے دیاروں سے

    جہاں تا حد بینائی مسافر ہی مسافر ہوں

    نشاں قدموں کے مٹ جاتے ہیں ایسی رہ گزاروں سے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY