کوئی شکوہ تھا شکایت تھی گلا تھا کیا تھا

تنویر گوہر

کوئی شکوہ تھا شکایت تھی گلا تھا کیا تھا

تنویر گوہر

MORE BYتنویر گوہر

    کوئی شکوہ تھا شکایت تھی گلا تھا کیا تھا

    اس نے جو کان میں چپکے سے کہا تھا کیا تھا

    بھول کچھ مجھ سے ہوئی تھی کہ خطا اس کی تھی

    جو سبب ترک تعلق کا بنا تھا کیا تھا

    سوچتا ہوں وہ تھا دیوانہ کہ تھا سودائی

    پیار میں تو نے جو اک نام دیا تھا کیا تھا

    بارہا فون پہ اس نے جو کہا تھا مجھ سے

    سامنے کیوں وہ مرے کہہ نہ سکا تھا کیا تھا

    آج تک بھی نہ سمجھ پایا میں آنکھوں میں تری

    مکر رنگیں تھا کہ پھر رنگ وفا تھا کیا تھا

    تھا اگر غیر مجھے چھوڑ کے جانے والا

    کیوں گئی رات میں پھر سو نہ سکا تھا کیا تھا

    اس کی گفتار میں لغزش تھی نگاہیں بے چین

    اس کی آنکھوں میں کوئی راز چھپا تھا کیا تھا

    کیوں وہ مغرور سر بزم کھڑا تھا گوہرؔ

    اس کی فطرت تھی کہ دولت کا نشہ تھا کیا تھا

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY