کوئی تو راہ سجھا دور تک اندھیرا ہے

عقیل شاہ

کوئی تو راہ سجھا دور تک اندھیرا ہے

عقیل شاہ

MORE BYعقیل شاہ

    کوئی تو راہ سجھا دور تک اندھیرا ہے

    کہاں ہے میرے خدا دور تک اندھیرا ہے

    مرا خیال تھا کچھ آگے روشنی ہو گی

    میں جانتا نہیں تھا دور تک اندھیرا ہے

    کسی کی کھوج میں نکلا ہوں مہر و ماہ لیے

    ہے التماس دعا دور تک اندھیرا ہے

    نہ ہوگا طے یہ سفر صرف روشن آنکھوں سے

    چراغ دل بھی جلا دور تک اندھیرا ہے

    نظر کے سامنے تھے ان گنت ستارے مگر

    فقیر کہتا رہا دور تک اندھیرا ہے

    ہمارے ہاتھ کی ریکھائیں کیا بتاتی ہیں

    ہمیں بتائیے کیا دور تک اندھیرا ہے

    عقیلؔ پہلے تو بینائی کی بشارت دی

    پھر اس نے مجھ سے کہا دور تک اندھیرا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY