کچھ بات ہی تھی ایسی کہ تھامے جگر گئے

حکیم محمد اجمل خاں شیدا

کچھ بات ہی تھی ایسی کہ تھامے جگر گئے

حکیم محمد اجمل خاں شیدا

MORE BYحکیم محمد اجمل خاں شیدا

    کچھ بات ہی تھی ایسی کہ تھامے جگر گئے

    ہم اور جاتے بزم عدو میں مگر گئے

    یہ تو خبر نہیں کہ کہاں اور کدھر گئے

    لیکن یہاں سے دور کچھ اہل سفر گئے

    ارماں جو ہم نے جمع کئے تھے شباب میں

    پیری میں وہ خدا کو خبر ہے کدھر گئے

    رتبہ بلند ہے مرے داغوں کا اس قدر

    میں ہوں زمیں پہ داغ مرے تا قمر گئے

    رخسار پر ہے رنگ حیا کا فروغ آج

    بوسے کا نام میں نے لیا وہ نکھر گئے

    دنیا بس اس سے اور زیادہ نہیں ہے کچھ

    کچھ روز ہیں گزارنے اور کچھ گزر گئے

    جانے لگا ہے دل کی طرف ان کا ہاتھ اب

    نالے شب فراق کے کچھ کام کر گئے

    حسرت کا یہ مزا ہے کہ نکلے نہیں کبھی

    ارماں نہیں ہیں وہ کہ شب آئے سحر گئے

    بس ایک ذات حضرت شیداؔ کی ہے یہاں

    دہلی سے رفتہ رفتہ سب اہل ہنر گئے

    مآخذ:

    • کتاب : Noquush (Pg. B-408 E-418)
    • مطبع : Nuqoosh Press Lahore (May June 1954)
    • اشاعت : May June 1954

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY