کچھ بھی بچا نہ کہنے کو ہر بات ہو گئی

ندا فاضلی

کچھ بھی بچا نہ کہنے کو ہر بات ہو گئی

ندا فاضلی

MORE BY ندا فاضلی

    کچھ بھی بچا نہ کہنے کو ہر بات ہو گئی

    آؤ کہیں شراب پئیں رات ہو گئی

    پھر یوں ہوا کہ وقت کا پانسہ پلٹ گیا

    امید جیت کی تھی مگر مات ہو گئی

    سورج کو چونچ میں لیے مرغا کھڑا رہا

    کھڑکی کے پردے کھینچ دیے رات ہو گئی

    وہ آدمی تھا کتنا بھلا کتنا پرخلوص

    اس سے بھی آج لیجے ملاقات ہو گئی

    رستے میں وہ ملا تھا میں بچ کر گزر گیا

    اس کی پھٹی قمیص مرے ساتھ ہو گئی

    نقشہ اٹھا کے کوئی نیا شہر ڈھونڈیئے

    اس شہر میں تو سب سے ملاقات ہو گئی

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    پنکج اداس

    پنکج اداس

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY