کچھ دل کا تعلق تو نبھاؤ کہ چلا میں

خالد ملک ساحل

کچھ دل کا تعلق تو نبھاؤ کہ چلا میں

خالد ملک ساحل

MORE BYخالد ملک ساحل

    کچھ دل کا تعلق تو نبھاؤ کہ چلا میں

    یا ٹوٹ کے آواز لگاؤ کہ چلا میں

    درپیش مسافت ہے کسی خواب نگر کی

    اک دیپ مرے پاس جلاؤ کہ چلا میں

    اس شہر کے لوگوں پہ بھروسا نہیں کرنا

    زنجیر کوئی در پہ لگاؤ کہ چلا میں

    تا دل میں تمھارے بھی نہ احساس وفا ہو

    جی بھر کے مجھے آج ستاؤ کہ چلا میں

    مشتاق نگاہوں سے یہ سحر ٹوٹ رہا ہے

    چہرے پہ کوئی رنگ سجاؤ کہ چلا میں

    اس شہر مراسم میں تو سنگسار ہوا ہوں

    پتھر ہی سر راہ سجاؤ کہ چلا میں

    اس تشنہ لبی پر مجھے اعزاز تو بخشو

    اے بادہ کشو جام اٹھاؤ کہ چلا میں

    اس درجہ تغافل کی نہیں تاب جگر کو

    تم اور بہانے نہ بناؤ کہ چلا میں

    اک خواب ہے وہ خواب تو پورا کرو ساحلؔ

    اک شعر مرا مجھ کو سناؤ کہ چلا میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY