کچھ لوگ تو اتنی بھی مروت نہیں کرتے

وفا نقوی

کچھ لوگ تو اتنی بھی مروت نہیں کرتے

وفا نقوی

MORE BYوفا نقوی

    کچھ لوگ تو اتنی بھی مروت نہیں کرتے

    ملنے کی کبھی خود سے بھی زحمت نہیں کرتے

    اس بار تو رستے بھی مجھے روک رہے ہیں

    دیوار و در و بام ہی الفت نہیں کرتے

    بازار میں اب کون خریدار ہے اپنا

    اتنی بھی زیادہ ابھی قیمت نہیں کرتے

    کیا ہوگا سر شام جو ہم ہوں گے نہ گھر میں

    یہ سوچ کے ہم شہر سے ہجرت نہیں کرتے

    کہتے ہیں فقیروں کی فضیلت پہ قصائد

    ہم آج بھی حکام کی بیعت نہیں کرتے

    سجدوں کے عوض خلد بریں مانگنے والو

    کیوں اپنے مکانوں کو ہی جنت نہیں کرتے

    چھپ جاتے ہیں آغوش میں سورج کی ہمیشہ

    یہ چاند ستارے کبھی رحلت نہیں کرتے

    سوکھے ہوئے پیڑوں پہ کوئی پھول نہیں ہے

    کیوں ان سے پرندے بھی محبت نہیں کرتے

    دیوار تو اٹھتی ہوئی دیکھیں گے گھروں میں

    وہ لوگ جو بچوں کو نصیحت نہیں کرتے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے