کچھ پرندوں کو تو بس دو چار دانے چاہئیں

راجیش ریڈی

کچھ پرندوں کو تو بس دو چار دانے چاہئیں

راجیش ریڈی

MORE BY راجیش ریڈی

    کچھ پرندوں کو تو بس دو چار دانے چاہئیں

    کچھ کو لیکن آسمانوں کے خزانے چاہئیں

    دوستوں کا کیا ہے وہ تو یوں بھی مل جاتے ہیں مفت

    روز اک سچ بول کر دشمن کمانے چاہئیں

    تم حقیقت کو لیے بیٹھے ہو تو بیٹھے رہو

    یہ زمانہ ہے اسے ہر دن فسانے چاہئیں

    روز ان آنکھوں کے سپنے ٹوٹ جاتے ہیں تو کیا

    روز ان آنکھوں میں پھر سپنے سجانے چاہئیں

    بارہا خوش ہو رہے ہیں کیوں انہی باتوں پہ لوگ

    بارہا جن پہ انہیں آنسو بہانے چاہئیں

    مآخذ:

    • کتاب : Vajood (Pg. 23)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY