کیا دن تھے جب چھپ چھپ کر تم پاس ہمارے آتے تھے

مرزا محمد تقی ہوسؔ

کیا دن تھے جب چھپ چھپ کر تم پاس ہمارے آتے تھے

مرزا محمد تقی ہوسؔ

MORE BYمرزا محمد تقی ہوسؔ

    کیا دن تھے جب چھپ چھپ کر تم پاس ہمارے آتے تھے

    کانپتے تھے بدنامی کے ڈر سے آنسو پی پی جاتے تھے

    ہائے جوانی کیا موسم تھا اب وہ دن یاد آتے ہیں

    روٹھتے تھے ہم ہر دم ان پہ اور وہ آ کے مناتے تھے

    ہائے غضب ہے مجھ وحشی کو اس موسم میں قید کیا

    سن جب شور فصل بہاراں مرغ قفس گھبراتے تھے

    ذکر کیا میں آپ کا کس سے کس کے آگے نام لیا

    دشمن تھے وہ لوگ مرے جو آپ کے تئیں بہکاتے تھے

    ہائے وہ پہلے چاہ کا عالم کس سے میں اظہار کروں

    میں تو حجاب سے آپ خجل تھا وہ مجھ سے شرماتے تھے

    اس سے ہوسؔ ملنا مشکل تھا پر وہ ہم سے دور نہ تھے

    ان کی ہی تصویر سے ہر دم اپنا جی بہلاتے تھے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY