کیا حنا خوں ریز نکلی ہائے پس جانے کے بعد

جلیل مانک پوری

کیا حنا خوں ریز نکلی ہائے پس جانے کے بعد

جلیل مانک پوری

MORE BYجلیل مانک پوری

    کیا حنا خوں ریز نکلی ہائے پس جانے کے بعد

    بن گئی تلوار ان کے ہاتھ میں آنے کے بعد

    جام جم کی دھوم ہے سارے جہاں میں ساقیا

    مانتا ہوں میں بھی لیکن تیرے پیمانے کے بعد

    شکریہ واعظ جو مجھ کو ترک مے کی دی صلاح

    غور میں اس پر کروں گا ہوش میں آنے کے بعد

    شمع معشوقوں کو سکھلاتی ہے طرز عاشقی

    جل کے پروانے سے پہلے بجھ کے پروانے کے بعد

    آشنا ہو کر بتوں کے ہو گئے حق آشنا

    ہم نے کعبے کی بنا ڈالی ہے بت خانے کے بعد

    میں کروں کس کا نظارہ دیکھ کر تیرا جمال

    میں سنوں کس کا فسانہ تیرے افسانے کے بعد

    شمع محفل کا ہوا یہ رنگ ان کے سامنے

    پھول کی ہوتی ہے صورت جیسے مرجھانے کے بعد

    سچ یہ کہتے ہیں کہ ہنسنے کی جگہ دنیا نہیں

    چشم عبرت ہیں چمن کے پھول مرجھانے کے بعد

    فکر و کاوش ہو تو نکلیں معنیٔ رنگیں جلیلؔ

    لعل اگلتی ہے زباں خون جگر کھانے کے بعد

    مآخذ:

    • کتاب : Kainat-e-Jalil Manakpuri (Pg. 252)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY