کیا ہو گیا کیسی رت پلٹی مرا چین گیا مری نیند گئی

فرید جاوید

کیا ہو گیا کیسی رت پلٹی مرا چین گیا مری نیند گئی

فرید جاوید

MORE BYفرید جاوید

    کیا ہو گیا کیسی رت پلٹی مرا چین گیا مری نیند گئی

    کھلتی ہی نہیں اب دل کی کلی مرا چین گیا مری نیند گئی

    میں لاکھ رہوں یوں ہی خاک بسر شاداب رہیں ترے شام و سحر

    نہیں اس کا مجھے شکوہ بھی کوئی مرا چین گیا مری نیند گئی

    میں کب سے ہوں آس لگائے ہوئے اک شمع امید جلائے ہوئے

    کوئی لمحہ سکوں کا ملے تو سہی مرا چین گیا مری نیند گئی

    جاویدؔ کبھی میں شاداں تھا مرے ساتھ طرب کا طوفاں تھا

    پھر زندگی مجھ سے روٹھ گئی مرا چین گیا مری نیند گئی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY