کیا کہوں دل مائل زلف دوتا کیونکر ہوا

بہادر شاہ ظفر

کیا کہوں دل مائل زلف دوتا کیونکر ہوا

بہادر شاہ ظفر

MORE BYبہادر شاہ ظفر

    کیا کہوں دل مائل زلف دوتا کیونکر ہوا

    یہ بھلا چنگا گرفتار بلا کیونکر ہوا

    جن کو محراب عبادت ہو خم ابروئے یار

    ان کا کعبے میں کہو سجدہ ادا کیونکر ہوا

    دیدۂ حیراں ہمارا تھا تمہارے زیر پا

    ہم کو حیرت ہے کہ پیدا نقش پا کیونکر ہوا

    نامہ بر خط دے کے اس نو خط کو تو نے کیا کہا

    کیا خطا تجھ سے ہوئی اور وہ خفا کیونکر ہوا

    خاکساری کیا عجب کھووے اگر دل کا غبار

    خاک سے دیکھو کہ آئینہ صفا کیونکر ہوا

    جن کو یکتائی کا دعویٰ تھا وہ مثل آئینہ

    ان کو حیرت ہے کہ پیدا دوسرا کیونکر ہوا

    تیرے دانتوں کے تصور سے نہ تھا گر آب دار

    جو بہا آنسو وہ در بے بہا کیونکر ہوا

    جو نہ ہونا تھا ہوا ہم پر تمہارے عشق میں

    تم نے اتنا بھی نہ پوچھا کیا ہوا کیونکر ہوا

    وہ تو ہے نا آشنا مشہور عالم میں ظفرؔ

    پر خدا جانے وہ تجھ سے آشنا کیونکر ہوا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY