کیا خبر تجھ کو او دامن کو چھڑانے والے

عالم نظامی

کیا خبر تجھ کو او دامن کو چھڑانے والے

عالم نظامی

MORE BYعالم نظامی

    کیا خبر تجھ کو او دامن کو چھڑانے والے

    اور بھی ہیں مجھے سینے سے لگانے والے

    ناپتے کیسے مرے ظرف کی گہرائی کو

    ڈبکیاں خطۂ ساحل میں لگانے والے

    اے ہواؤ نہ کہیں ہاتھ جلا لو تم بھی

    بجھ گئے میرے چراغوں کو بجھانے والے

    جسم مر سکتا ہے آواز نہیں مرتی ہے

    یاد رکھیں مری آواز دبانے والے

    خود کو کیسے کسی منزل کے حوالے کرتا

    منتظر تھے مری آمد کے زمانے والے

    باپ کی قبر پہ مٹی بھی نہیں ڈالتے ہیں

    پھول نیتاؤں کی قبروں پہ چڑھانے والے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے