کیا پتا ہم کو ملا ہے اپنا

باقی صدیقی

کیا پتا ہم کو ملا ہے اپنا

باقی صدیقی

MORE BYباقی صدیقی

    کیا پتا ہم کو ملا ہے اپنا

    اور کچھ نشہ چڑھا ہے اپنا

    کان پڑتی نہیں آواز کوئی

    دل میں وہ شور بپا ہے اپنا

    اب تو ہر بات پہ ہوتا ہے گماں

    واقعہ کوئی سنا ہے اپنا

    ہر بگولے کو ہے نسبت ہم سے

    دشت تک سایہ گیا ہے اپنا

    خود ہی دروازے پہ دستک دی ہے

    خود ہی در کھول دیا ہے اپنا

    دل کی اک شاخ بریدہ کے سوا

    چمن دہر میں کیا ہے اپنا

    کوئی آواز کوئی ہنگامہ

    قافلہ رکنے لگا ہے اپنا

    اپنی آواز پہ چونک اٹھتا ہے

    دل میں جو چور چھپا ہے اپنا

    کون تھا مد مقابل باقیؔ

    خود پہ ہی وار پڑا ہے اپنا

    مأخذ :
    • کتاب : baar-e-safar (Pg. 90)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY