لب خرد سے یہی بار بار نکلے گا

کالی داس گپتا رضا

لب خرد سے یہی بار بار نکلے گا

کالی داس گپتا رضا

MORE BY کالی داس گپتا رضا

    لب خرد سے یہی بار بار نکلے گا

    نکالنے ہی سے دل کا غبار نکلے گا

    اگیں گے پھول خیالوں کے ریگ زاروں سے

    خزاں کے گھر سے جلوس بہار نکلے گا

    کہیں فریب نہ کھانا یہی فدائے جام

    بوقت کار عجب ہوشیار نکلے گا

    چمن کا حسن سمجھ کر سمیٹ لائے تھے

    کسے خبر تھی کہ ہر پھول خار نکلے گا

    یہ حکم ہے کہ کوئی راہ راست پر نہ چلے

    ہوا کے گھوڑے پہ کوئی سوار نکلے گا

    کسے نہیں ہے شکایت رضاؔ زمانے سے

    ٹٹولو کوئی جگر داغدار نکلے گا

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    لب خرد سے یہی بار بار نکلے گا نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY