لبوں تک آیا زباں سے مگر کہا نہ گیا

یزدانی جالندھری

لبوں تک آیا زباں سے مگر کہا نہ گیا

یزدانی جالندھری

MORE BYیزدانی جالندھری

    لبوں تک آیا زباں سے مگر کہا نہ گیا

    فسانہ درد کا المختصر کہا نہ گیا

    حریم ناز میں کیا بات تھی جو راز رہی

    وہ حرف کیا تھا جو بار دگر کہا نہ گیا

    یہ حادثہ بھی عجب ہے کہ تیرے غم کے سوا

    کسی بھی غم کو غم معتبر کہا نہ گیا

    نفس نفس میں تھا احساس خانہ ویرانی

    خرابۂ غم ہستی کو گھر کہا نہ گیا

    تلاش کرتا ہوں ایمائے التفات ابھی

    وہ کیا نظر تھی کہ جس کو نظر کہا نہ گیا

    جنوں نے فکر و نظر کو وہ رفعتیں بخشیں

    خرد کو ہم سے کبھی دیدہ ور کہا نہ گیا

    نہ کوئی شور نہ غوغا نہ ہاؤ ہو نہ خروش

    خزاں کو موسم دیرنہ گر کہا نہ گیا

    دل اضطراب گزارش کا محشرستاں تھا

    کسی کے سامنے کچھ بھی مگر کہا نہ گیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY