لفظوں کے سیہ پیراہن میں لپٹی ہوئی کچھ تنویریں ہیں

مخمور سعیدی

لفظوں کے سیہ پیراہن میں لپٹی ہوئی کچھ تنویریں ہیں

مخمور سعیدی

MORE BYمخمور سعیدی

    لفظوں کے سیہ پیراہن میں لپٹی ہوئی کچھ تنویریں ہیں

    اے دیدہ ورو پہچانو تو کس ہاتھ کی یہ تحریریں ہیں

    جاتی ہوئی رت کب رکتی ہے اے دل یہ عبث تدبیریں ہیں

    جو قید ہواؤں کو کر لیں کیا ایسی بھی کچھ زنجیریں ہیں

    نغمہ وہ کس نے چھیڑا ہے بچھڑے ہوئے غم سب آن ملے

    آواز کی لہروں پر لرزاں سو مہر بہ لب تصویریں ہیں

    آوارہ ہوا کے جھونکوں پر اکثر یہ گماں گزرا جیسے

    یہ ہم سے پریشاں حالوں کی بے سمت و جہت تقدیریں ہیں

    اس شہر میں لے کر آئے ہیں ہم شبنم و گل کی سوغاتیں

    آنکھوں میں جہاں انگارے ہیں ہاتھوں میں جہاں شمشیریں ہیں

    کچھ خواب اجالوں کے ہم نے دیکھے تھے مگر تا حد نظر

    جو ظلمت بن کر پھیل گئیں کن خوابوں کی تعبیریں ہیں

    کیوں آج کی جانی پہچانی شکلوں سے نظر مانوس نہیں

    آنکھوں میں جو پھرتی رہتی ہیں کس دور کی یہ تصویریں ہیں

    ہم اپنی ذات کے زنداں سے باہر جو نکل آئے بھی تو کیا

    قدموں سے جو لپٹی پڑتی ہیں راہیں یہ نہیں زنجیریں ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY