لگ گئی مجھ کو یہ کس شخص کی ہائے ہائے

اشراق عزیزی

لگ گئی مجھ کو یہ کس شخص کی ہائے ہائے

اشراق عزیزی

MORE BYاشراق عزیزی

    لگ گئی مجھ کو یہ کس شخص کی ہائے ہائے

    ایک لمحہ بھی مجھے چین نہ آئے ہائے

    سسکیاں آہ و فغاں اور میں کیا کیا دیکھوں

    ظلم اتنا بھی کوئی مجھ پہ نہ ڈھائے ہائے

    جام ہاتھوں سے پلاتا ہے وہ ہر شام کے بعد

    کاش ہونٹوں سے بھی اک روز پلائے ہائے

    میرے محبوب ترے رخ کی زیارت کے لئے

    چاند کی چاندنی کھڑکی سے بلائے ہائے

    عشق کے جرم میں کروا کے گرفتار مجھے

    کوئی پازیب کی جھنکار سنائے ہائے

    دل چراتے ہیں سبھی دن کے اجالے میں مگر

    کوئی راتوں کو مرا خواب چرائے ہائے

    داستاں غم کی میں جب جب بھی لکھوں کاغذ پر

    عکس اس ماہ جبیں کا ابھر آئے ہائے

    سامنا ہو تو چرا لے وہ نگاہیں مجھ سے

    دور جائے تو اشارے سے بلائے ہائے

    اس کی انگلی میں وہ تاثیر کہ لذت بخشے

    جب بھی وہ چائے میں انگلی کو گھمائے ہائے

    اس کو میں دیکھ کے آیا ہوں تو کیا دیکھتا ہوں

    اس کے عشاق مجھے دیکھنے آئے ہائے

    توڑ کر دل وہ مرا جب سے گیا ہے اشراقؔ

    دل سے ہر وقت نکلتی ہے صدائے ہاے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY