لہو ہماری جبیں کا کسی کے چہرے پر

فضا ابن فیضی

لہو ہماری جبیں کا کسی کے چہرے پر

فضا ابن فیضی

MORE BYفضا ابن فیضی

    لہو ہماری جبیں کا کسی کے چہرے پر

    یہ روپ رس بھی سہی زندگی کے چہرے پر

    ابھی یہ زخم مسرت ہے ناشگفتہ سا

    چھڑک دو میرے کچھ آنسو ہنسی کے چہرے پر

    نوا کی گرد ہوں مجھ کو سمیٹ کر لے جا

    بکھر نہ جاؤں کہیں خامشی کے چہرے پر

    اس انقلاب پہ کس کی نظر گئی ہوگی

    غموں کی دھوپ کھلی ہے خوشی کے چہرے پر

    ہزیمتوں کے کس انبوہ میں ہیں گم ہم لوگ

    کوئی وقار نہیں آدمی کے چہرے پر

    خراش درد کا آئینہ ہوں مجھے دیکھو

    یہ بانکپن بھی کہاں ہے کسی کے چہرے پر

    بہت حریص ہیں دیدہ وران چہرہ فضاؔ

    نقاب ڈال کے چل آگہی کے چہرے پر

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    لہو ہماری جبیں کا کسی کے چہرے پر نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY