لہو کا ذائقہ ہی جب زبان تک نہ گیا

منیر سیفی

لہو کا ذائقہ ہی جب زبان تک نہ گیا

منیر سیفی

MORE BYمنیر سیفی

    لہو کا ذائقہ ہی جب زبان تک نہ گیا

    تو کیا عجب ہے جو زخموں پہ دھیان تک نہ گیا

    وہ ایک وہم جو سرمایۂ فقیری تھا

    یقیں میں اس طرح بدلا گمان تک نہ گیا

    بدل گئی کہیں رستے میں کیمیا اس کی

    اٹھا غبار مگر آسمان تک نہ گیا

    انا پرست تھے ایسے بدن تو پھر ہے بدن

    ہمارا سایہ کبھی سائبان تک نہ گیا

    بتا کے رہ گئے سب داؤ پیچ ساحل سے

    ہوا کے ساتھ کوئی بادبان تک نہ گیا

    خدا کا شکر کہ میرے ہی جرم کافی تھے

    فقیہ شہر مرے خاندان تک نہ گیا

    ہمارے تیر چھپائے نہیں گئے تھے منیرؔ

    ہمارا ہات ہی اپنی کمان تک نہ گیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY