لہو سے نقش عبارت نہ میرے کام آئی
لہو سے نقش عبارت نہ میرے کام آئی
ان آنسوؤں کی سفارت نہ میرے کام آئی
مری لحد پہ عبث بوجھ کس نے ڈال دیا
یہ پتھروں کی عمارت نہ میرے کام آئی
رہا نجس کا نجس ہی کہ میل تھا دل میں
مرے بدن کی طہارت نہ میرے کام آئی
وہاں پہ چشم بصیرت نے میرا ساتھ دیا
جہاں پہ چشم بصارت نہ میرے کام آئی
میں تشنہ لب رہا ساقی رہا کہ رند رہا
وہ مے کدوں کی صدارت نہ میرے کام آئی
یہ حکم یار تھا فریاد ہو سر محفل
سو خامشی کی جسارت نہ میرے کام آئی
اٹھا دیا گیا مرنے کے بعد پھر مجھ کو
سکوت دل کی شرارت نہ میرے کام آئی
وہ مطربان حیات ایسے خوش گلو تھے امرؔ
اجل کی کوئی بشارت نہ میرے کام آئی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.