Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

لہو سے نقش عبارت نہ میرے کام آئی

امر روحانی

لہو سے نقش عبارت نہ میرے کام آئی

امر روحانی

MORE BYامر روحانی

    لہو سے نقش عبارت نہ میرے کام آئی

    ان آنسوؤں کی سفارت نہ میرے کام آئی

    مری لحد پہ عبث بوجھ کس نے ڈال دیا

    یہ پتھروں کی عمارت نہ میرے کام آئی

    رہا نجس کا نجس ہی کہ میل تھا دل میں

    مرے بدن کی طہارت نہ میرے کام آئی

    وہاں پہ چشم بصیرت نے میرا ساتھ دیا

    جہاں پہ چشم بصارت نہ میرے کام آئی

    میں تشنہ لب رہا ساقی رہا کہ رند رہا

    وہ مے کدوں کی صدارت نہ میرے کام آئی

    یہ حکم یار تھا فریاد ہو سر محفل

    سو خامشی کی جسارت نہ میرے کام آئی

    اٹھا دیا گیا مرنے کے بعد پھر مجھ کو

    سکوت دل کی شرارت نہ میرے کام آئی

    وہ مطربان حیات ایسے خوش گلو تھے امرؔ

    اجل کی کوئی بشارت نہ میرے کام آئی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta 10th Edition | 5-6-7 December Get Tickets Here

    بولیے