لمبی تھی عمر محبت کی برباد ہوئے ہوتے ہوتے

مشتاق نقوی

لمبی تھی عمر محبت کی برباد ہوئے ہوتے ہوتے

مشتاق نقوی

MORE BYمشتاق نقوی

    لمبی تھی عمر محبت کی برباد ہوئے ہوتے ہوتے

    کچھ رات کٹی پیتے پیتے کچھ رات کٹی روتے روتے

    ان پیاس بھری آنکھوں کے سوا اس جگ میں اپنا تھا ہی کیا

    سب کو دیکھا چلتے چلتے سب کو کھویا کھوتے کھوتے

    جب یاد کوئی آ جاتی ہے یوں دل کی کلی کھل جاتی ہے

    جیسے خوابوں کی دنیا میں بچہ ہنس دے سوتے سوتے

    کیا جانئے دل پہ کیا بیتی کیا جانئے آنکھ نے کیا دیکھا

    کیوں چونک کے اٹھ اٹھ پڑتے ہیں ہم راتوں کو سوتے سوتے

    فصلیں بیتیں موسم بدلا اور وقت نے یوں کیا کچھ نہ کیا

    وہ داغ نہ دل سے دور ہوا اک عمر کٹی دھوتے دھوتے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY