لمحۂ تلخیٔ گفتار تلک لے آیا

اشفاق حسین

لمحۂ تلخیٔ گفتار تلک لے آیا

اشفاق حسین

MORE BYاشفاق حسین

    لمحۂ تلخیٔ گفتار تلک لے آیا

    وہ مجھے اپنے ہی معیار تلک لے آیا

    کیا رکھے اس سے کوئی سلسلۂ گفت و شنید

    گھر کی باتوں کو جو بازار تلک لے آیا

    میں نے جو بات بھروسے پہ کہی تھی اس سے

    وہ اسے سرخیٔ اخبار تلک لے آیا

    گھر میں جب کچھ نہ بچا اس کی اعانت کے لیے

    میں اٹھا کر در و دیوار تلک لے آیا

    اس کی آنکھوں میں عجب سحر تھا میں جس کے سبب

    دل کی باتیں لب اظہار تلک لے آیا

    وہ جو قائل ہی نہ تھا میری محبت کا اسے

    رفتہ رفتہ حد اقرار تلک لے آیا

    میرے ہر جھوٹ کو دنیا نے سراہا لیکن

    ایک سچ مرحلۂ دار تلک لے آیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY