لے کے ہاتھوں میں محبت کے گہر آئے ہیں

نبیل احمد نبیل

لے کے ہاتھوں میں محبت کے گہر آئے ہیں

نبیل احمد نبیل

MORE BYنبیل احمد نبیل

    لے کے ہاتھوں میں محبت کے گہر آئے ہیں

    اک نظر دیکھ ترے خاک بسر آئے ہیں

    اک عجب دھڑکا دل و جاں کو لگا رہتا ہے

    جب بھی پردیس سے ہم لوٹ کے گھر آئے ہیں

    جس طرف بھی میں گیا میں نے جدھر بھی دیکھا

    زخم کی طرح مجھے لوگ نظر آئے ہیں

    نوک نیزہ کی طرف ایک نظر دیکھ ذرا

    کس بلندی پہ وہ عشاق کے سر آئے ہیں

    موم ہو جائے وہ پتھر کی طرح سخت بدن

    اپنے نالوں میں کہاں اتنے اثر آئے ہیں

    سر پھری آندھی گرانے اسے آ پہنچی ہے

    آس کے پیڑ پہ جس دم سے ثمر آئے ہیں

    جب سے اترا ہے سفینہ مرا ساحل پہ نبیلؔ

    موج در موج کنارے پہ بھنور آئے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY