لے کے خود پیر مغاں ہاتھ میں مینا آیا

شاد عظیم آبادی

لے کے خود پیر مغاں ہاتھ میں مینا آیا

شاد عظیم آبادی

MORE BYشاد عظیم آبادی

    لے کے خود پیر مغاں ہاتھ میں مینا آیا

    مے کشو شرم کہ اس پر بھی نہ پینا آیا

    نہ پلانا کسی مے کش کو نہ پینا آیا

    تجھ کو زاہد اگر آیا بھی تو کینہ آیا

    عمر بھر خون جگر بیٹھ کے پینا آیا

    آرزوؤ تمہیں مرنا ہمیں جینا آیا

    دل نے دیکھا مجھے اور میں نے فلک کو دیکھا

    بچ کے ساحل پہ اگر کوئی سفینا آیا

    کسی بدمست کی یاد آ گئیں آنکھیں ساقی

    جب چھلکتا ہوا آگے مرے مینا آیا

    اک ذرا سی تھی کبھی کی خلش اس پر اے حشر

    دل میں لیتا ہوا زاہد وہی کینہ آیا

    لڑکھڑانا کوئی سیکھا کوئی سیکھا مستی

    ہم کو آیا تو فقط ڈھال کے پینا آیا

    خوش ہو اے چشم کہ ہے فصل یہی رونے کی

    مژدہ اے ابر کہ ساون کا مہینہ آیا

    پی ہی لینی تھی جو مے خانے کو آ نکلا تھا

    تجھ کو صحبت کا بھی زاہد نہ قرینا آیا

    چاہا جو کچھ وہ زمانے نے کیا نقش اس پر

    میں تو سادہ لیے اس دل کا نگینہ آیا

    آج تک دامن گل چاک ہے خیاط ازل

    تجھ کو خلعت بھی حسینوں کا نہ سینا آیا

    دیکھ چاروں طرف اپنے کہ تماشا کیا ہے

    لے کے اس بزم میں تو دیدۂ بینا آیا

    منہ پہ عاشق کے محبت کی شکایت ناصح

    بات کرنے کا بھی ناداں نہ قرینا آیا

    کس طرح ملتے ہیں بچھڑوں سے دکھا دیں گے کبھی

    دل میں وہ تیر اگر چیر کے سینا آیا

    ڈھال کر دیتے ہیں کس کو کسے بے ڈھالے ہوئے

    میرے ساقی کو تو یہ بھی نہ قرینا آیا

    زندگی کرتے ہیں کس طرح یہ سیکھو اس وقت

    شادؔ کیا نفع اگر مرنے پہ جینا آیا

    مآخذ :
    • کتاب : Dewan-e-shad Azimabadi (Pg. 33)
    • Author : Shad Azimabadi
    • مطبع : Educational Publishing House (2005)
    • اشاعت : 2005

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY