لکھے ہوئے الفاظ میں تاثیر نہیں ہے

شائستہ مفتی

لکھے ہوئے الفاظ میں تاثیر نہیں ہے

شائستہ مفتی

MORE BYشائستہ مفتی

    لکھے ہوئے الفاظ میں تاثیر نہیں ہے

    دل پر جو کسی عشق کی تحریر نہیں ہے

    اس زیست کے ہر موڑ پہ لڑنی ہے مجھے جنگ

    قرطاس و قلم ہیں کوئی شمشیر نہیں ہے

    ممکن ہی نہیں تھا تجھے آواز لگاتے

    ہے عشق کی روداد پہ تشہیر نہیں ہے

    دنیا میں وفا ڈھونڈنے نکلے تھے ندارد

    اک بوجھ ہے دل پر مرے شہتیر نہیں ہے

    لمحے میں پلٹ دیں گے زمانے کو تمہارے

    ہے عہد ہنر جان یہ تسخیر نہیں ہے

    پیوست ہیں اس گھر سے بہت آپ کی یادیں

    گزرے ہوئے لمحات ہیں زنجیر نہیں ہے

    چپ چاپ بہت دیر سے پھرتے ہیں گریزاں

    دنیا میں کوئی آپ سا دلگیر نہیں ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY