لپٹی ہوئی پھرتی ہے نسیم ان کی قبا سے

وحید اختر

لپٹی ہوئی پھرتی ہے نسیم ان کی قبا سے

وحید اختر

MORE BYوحید اختر

    لپٹی ہوئی پھرتی ہے نسیم ان کی قبا سے

    گل کھلتے ہیں ہر گام پہ دامن کی ہوا سے

    دل ایسا دیا کیوں کہ رہا کشتۂ جاناں

    تم سے نہیں یہ شکوہ بھی کرنا ہے خدا سے

    محرم ہیں ہمیں گرمئ گفتار سے ان کی

    جو ہونٹ جو آنکھیں ہیں گراں بار حیا سے

    آہستہ کرو چاک گلو اپنا گریباں

    گونجے نہ چمن غنچوں کے ہنسنے کی صدا سے

    کھولیں گے انہیں ہاتھوں کے ناخن گرہ دل

    جو بستہ ہیں رنگینی‌ٔ و خوشبوۓ حنا سے

    تعبیر کے صحراؤں میں ہیں خواب پریشاں

    دریا کو سرابوں سے صدا دیتے ہیں پیاسے

    لیتے ہو اگر نام شہیداں تو ہے یہ شرط

    جاں جائے رہے پا نہ ہٹیں راہ وفا سے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY