لبھا رہی تو ہے دنیا چمک دمک کی مجھے

رؤف خیر

لبھا رہی تو ہے دنیا چمک دمک کی مجھے

رؤف خیر

MORE BYرؤف خیر

    لبھا رہی تو ہے دنیا چمک دمک کی مجھے

    مگر حیات گوارا نہیں دھنک کی مجھے

    ہمیشہ اپنی لڑائی میں آپ لڑتا ہوں

    نہیں رہی کبھی حاجت کسی کمک کی مجھے

    بہت دنوں سے زمان و مکان حائل ہیں

    کہ آس بھی نہ رہی اب تری جھلک کی مجھے

    مرے قلم کی جو زد میں یہ بحر و بر آتے

    دہائی دینے لگے نان اور نمک کی مجھے

    مرا گمان یقیں میں بدلتا رہتا ہے

    سمجھنے والے بھلے ہی سمجھ لیں شکی مجھے

    چنانچہ گردش ایام تھک کے بیٹھ گئی

    میں سخت جان ہوں کیا پیستی یہ چکی مجھے

    اسی لیے تو میں نمٹا رہا ہوں کام اپنے

    میں جانتا ہوں کہ مہلت ہے آج تک کی مجھے

    ادا کیا اسی سکے میں بے جھجک میں نے

    ہوئی جہاں کہیں محسوس بو ہتک کی مجھے

    خراب حال یہ بے خیرؔ و بے ادب ہو کر

    بھٹک نہ جائے کہیں فکر ہے سڑک کی مجھے

    RECITATIONS

    رؤف خیر

    رؤف خیر

    رؤف خیر

    لبھا رہی تو ہے دنیا چمک دمک کی مجھے رؤف خیر

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY