Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

معصوم سے دو دل کیا دھڑکے بے پر کی اڑائی لوگوں نے

جاوید وششٹ

معصوم سے دو دل کیا دھڑکے بے پر کی اڑائی لوگوں نے

جاوید وششٹ

MORE BYجاوید وششٹ

    معصوم سے دو دل کیا دھڑکے بے پر کی اڑائی لوگوں نے

    خاموش محبت بھڑکا دی وہ آگ لگائی لوگوں نے

    کل شہر نگاراں میں جب ہم کچھ کھوئے ہوئے سے پھرتے تھے

    اس کوچۂ قاتل کی ہنس کر خود راہ بتائی لوگوں نے

    پھر درد اٹھا دل بیٹھ گیا پھر آنکھ بھری آنسو ڈھلکا

    افسوس نہ جانی اس پر بھی کچھ پیر پرائی لوگوں نے

    ہم نے ہی جلا کر دل اپنا اک جشن چراغاں کر ڈالا

    جب رسم وفا کی محفل میں ہر شمع بجھائی لوگوں نے

    مقتل کو سجایا قاتل نے جمہور کے خون ناحق سے

    ظالم کے لہو کی سرخی سے اک بزم سجائی لوگوں نے

    انجان کی دل کی دھڑکن میں گمنام سے نغمے گونج اٹھے

    اک درد کے نازک رشتے کی جب بات چلائی لوگوں نے

    جاویدؔ غزل کے پردے میں جب تار دلوں کے چھیڑ دئے

    ہر شعر پہ سر دھنتے ہی رہے وہ دھوم مچائی لوگوں نے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta 10th Edition | 5-6-7 December Get Tickets Here

    بولیے