معصوم سے دو دل کیا دھڑکے بے پر کی اڑائی لوگوں نے
معصوم سے دو دل کیا دھڑکے بے پر کی اڑائی لوگوں نے
خاموش محبت بھڑکا دی وہ آگ لگائی لوگوں نے
کل شہر نگاراں میں جب ہم کچھ کھوئے ہوئے سے پھرتے تھے
اس کوچۂ قاتل کی ہنس کر خود راہ بتائی لوگوں نے
پھر درد اٹھا دل بیٹھ گیا پھر آنکھ بھری آنسو ڈھلکا
افسوس نہ جانی اس پر بھی کچھ پیر پرائی لوگوں نے
ہم نے ہی جلا کر دل اپنا اک جشن چراغاں کر ڈالا
جب رسم وفا کی محفل میں ہر شمع بجھائی لوگوں نے
مقتل کو سجایا قاتل نے جمہور کے خون ناحق سے
ظالم کے لہو کی سرخی سے اک بزم سجائی لوگوں نے
انجان کی دل کی دھڑکن میں گمنام سے نغمے گونج اٹھے
اک درد کے نازک رشتے کی جب بات چلائی لوگوں نے
جاویدؔ غزل کے پردے میں جب تار دلوں کے چھیڑ دئے
ہر شعر پہ سر دھنتے ہی رہے وہ دھوم مچائی لوگوں نے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.