مایوسی میں دل بیچارہ صدیوں سے

طاہر عدیم

مایوسی میں دل بیچارہ صدیوں سے

طاہر عدیم

MORE BYطاہر عدیم

    مایوسی میں دل بیچارہ صدیوں سے

    ڈھونڈ رہا ہے ایک سہارا صدیوں سے

    ایک ہی بات عبث دہرائے جاتا ہے

    تن میں چلتا سانس کا آرا صدیوں سے

    ہیرؔ اگرچہ میں نے اپنی پالی ہے

    ڈھونڈ رہا ہوں تخت ہزارا صدیوں سے

    تم سے کیسے سمٹے گا یہ لمحوں میں

    دل اپنا ہے پارہ پارہ صدیوں سے

    کس اعلان کو گونج رہا ہے نس نس میں

    دھڑکن دھڑکن اک نقارا صدیوں سے

    کوئے منزل عشق میں کوئی کام ملے

    دل آوارہ ہے ناکارا صدیوں سے

    دل پر کیا ہم نے تو جاناں جان پہ بھی

    لکھ رکھا ہے نام تمہارا صدیوں سے

    اس نے دل کے درد سے پوچھا کب سے ہو

    دل سے اٹھ کے درد پکارا صدیوں سے

    خشک پڑا ہے آنکھ کے پردے پر طاہرؔ

    بحر درد کا ایک کنارا صدیوں سے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے