محدود نگاہی کے صنم ٹوٹ رہے ہیں

حیات وارثی

محدود نگاہی کے صنم ٹوٹ رہے ہیں

حیات وارثی

MORE BYحیات وارثی

    محدود نگاہی کے صنم ٹوٹ رہے ہیں

    تاریک اجالوں کے بھرم ٹوٹ رہے ہیں

    اس دور کی بدلی ہوئی رفتار کا عالم

    شیشوں کی طرح نقش قدم ٹوٹ رہے ہیں

    تشنہ ہے مرا جام تو کچھ غم نہیں ساقی

    یہ غم ہے کہ رندوں کے بھرم ٹوٹ رہے ہیں

    اس راز کو ارباب سیاست سے نہ پوچھو

    کیوں رابطۂ دیر و حرم ٹوٹ رہے ہیں

    یہ زیست ہے یا ریت کا کمزور گھروندا

    بن بن کے یوں ہی صدیوں سے ہم ٹوٹ رہے ہیں

    حالات کا یہ رخ بھی حیاتؔ آپ سمجھ لیں

    کیوں ظلم بہ انداز کرم ٹوٹ رہے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے