محرومیت پہ کس لئے کرتے ہو تم قلق

سعید رحمانی

محرومیت پہ کس لئے کرتے ہو تم قلق

سعید رحمانی

MORE BYسعید رحمانی

    محرومیت پہ کس لئے کرتے ہو تم قلق

    اب بڑھ کے چھین لینا ہے ظالم سے اپنا حق

    میرے خلاف کہتا ہے جو کچھ بھی وہ کبھی

    ہر لفظ اس کا ہوتا ہے خود اس پہ منطبق

    سادہ مزاج رکھتی ہے میری ہر اک غزل

    ہوتا نہیں ہے شعروں میں اک لفظ بھی ادق

    وہ مسکرا اٹھے تو مجھے اس طرح لگا

    چہرے پہ جیسے آ گئی رنگینئ شفق

    شعلے تعصبات کے بھڑکا رہے ہیں وہ

    نفرت کی پاٹھ شالا میں لیتے ہیں جو سبق

    لکھا ہے ان کا نام بڑے احترام سے

    اپنی بیاض دل کا ہے روشن ہر اک ورق

    اعجاز یہ بھی دیکھا ہے اہل جہان نے

    انگشت کے اشارے قمر ہو گیا تھا شق

    آئینہ اپنے شعر کو کرنے لگا ہوں میں

    چہرہ مرے حریف کا ہونے لگا ہے فق

    پھر دھوپ سے پڑے گا مجھے واسطہ سعیدؔ

    میری نظر کے آگے ہے صحرائے لق و دق

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے