محسوس کیوں نہ ہو مجھے بیگانگی بہت

سحر انصاری

محسوس کیوں نہ ہو مجھے بیگانگی بہت

سحر انصاری

MORE BYسحر انصاری

    محسوس کیوں نہ ہو مجھے بیگانگی بہت

    میں بھی تو اس دیار میں ہوں اجنبی بہت

    آساں نہیں ہے کشمکش ذات کا سفر

    ہے آگہی کے بعد غم آگہی بہت

    ہر شخص پرخلوص ہے ہر شخص با وفا

    آتی ہے اپنی سادہ دلی پر ہنسی بہت

    اس جان جاں سے قطع تعلق کے باوجود

    اس رہ گزر میں آج بھی ہے دل کشی بہت

    اس وضع احتیاط کی زنجیر کے لیے

    میں نے بھی کی ہے شہر میں آوارگی بہت

    مستانہ وار وادئ غم طے کرو سحرؔ

    باقی ہیں زندگی کے تقاضے ابھی بہت

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY