میں بچھڑ کر تجھ سے تیری روح کے پیکر میں ہوں

آزاد گلاٹی

میں بچھڑ کر تجھ سے تیری روح کے پیکر میں ہوں

آزاد گلاٹی

MORE BYآزاد گلاٹی

    میں بچھڑ کر تجھ سے تیری روح کے پیکر میں ہوں

    تو مری تصویر ہے میں تیرے پس منظر میں ہوں

    اپنا مرکز ڈھونڈتا ہوں دائروں میں کھو کے میں

    کتنے جنموں سے میں اک محدود سے چکر میں ہوں

    خود ہی دستک دے رہا ہوں اپنے در پر دیر سے

    گھر سے باہر رہ کے بھی جیسے میں اپنے گھر میں ہوں

    میں وہ آذر ہوں جسے برسوں رہی اپنی تلاش

    خود ہی مورت بن کے پوشیدہ ہر اک پتھر میں ہوں

    دیکھنے والے مجھے میری نظر سے دیکھ لے

    میں تری نظروں میں ہوں اور میں ہی ہر منظر میں ہوں

    گونجتا ہوں اپنے اندر اور کھو جاتا ہوں میں

    اک صدا بن کر انا کے گنبد بے در میں ہوں

    میں کبھی اک جھیل تھا پھیلے ہوئے صحراؤں میں

    آج میں اک پیاس کا صحرا ہوں اور ساگر میں ہوں

    موت کو آزادؔ یہ عرفان دینا ہے مجھے

    کاٹتی ہے مجھ کو جس سے وہ میں اس خنجر میں ہوں

    مآخذ
    • کتاب : Dasht-e-Sada (Pg. 51)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY