میں دریا ہوں مگر دونوں طرف ساحل ہے تنہائی

سبیلہ انعام صدیقی

میں دریا ہوں مگر دونوں طرف ساحل ہے تنہائی

سبیلہ انعام صدیقی

MORE BYسبیلہ انعام صدیقی

    میں دریا ہوں مگر دونوں طرف ساحل ہے تنہائی

    تلاطم خیز موجوں میں مری شامل ہے تنہائی

    محبت ہو تو تنہائی میں بھی اک کیف ہوتا ہے

    تمناؤں کی نغمہ آفریں محفل ہے تنہائی

    بہت دن وقت کی ہنگامہ آرائی میں گزرے ہیں

    انہیں گزرے ہوئے ایام کا حاصل ہے تنہائی

    ہجوم زیست سے دوری نے یہ ماحول بخشا ہے

    اکیلی میں مرا کمرا ہے اور قاتل ہے تنہائی

    مرے ہر کام کی مجھ کو وہی تحریک دیتی ہے

    اگرچہ دیکھنے میں کس قدر مشکل ہے تنہائی

    اسی نے تو تخیل کو مرے پرواز بخشی ہے

    خدا کا شکر ہے جو اب کسی قابل ہے تنہائی

    محبت کی شعاعوں سے توانائی جو ملتی ہے

    اسی رنگینیٔ مفہوم میں داخل ہے تنہائی

    خدا حسرت زدہ دل کی تمناؤں سے واقف ہے

    دعائیں روز و شب کرتی ہوئی سائل ہے تنہائی

    کسی کی یاد ہے دل میں ابھی تک انجمن آرا

    سبیلہؔ کون سمجھے گا کہ میرا دل ہے تنہائی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY