میں ہی اک شخص تھا یاران کہن میں ایسا

فضا ابن فیضی

میں ہی اک شخص تھا یاران کہن میں ایسا

فضا ابن فیضی

MORE BYفضا ابن فیضی

    میں ہی اک شخص تھا یاران کہن میں ایسا

    کون آوارہ پھرا کوچۂ فن میں ایسا

    ہم بھی جب تک جیے سر سبز ہی سر سبز رہے

    وقت نے زہر اتارا تھا بدن میں ایسا

    زندگی خود کو نہ اس روپ میں پہچان سکی

    آدمی لپٹا ہے خوابوں کے کفن میں ایسا

    ہر خزاں میں جو بہاروں کی گواہی دے گا

    ہم بھی چھوڑ آئے ہیں اک شعلہ چمن میں ایسا

    لوگ مجھ کو مرے آہنگ سے پہچان گئے

    کون بدنام رہا شہر سخن میں ایسا

    اپنے منصوروں کو اس دور نے پوچھا بھی نہیں

    پڑ گیا رخنہ صف دار و رسن میں ایسا

    ہے تضادوں بھری دنیا بھی ہم آہنگ بہت

    فاصلہ تو نہیں کچھ سنگ و سمن میں ایسا

    وقت کی دھوپ کو ماتھے کا پسینہ سمجھا

    میں شرابور رہا دل کی جلن میں ایسا

    تم بھی دیکھو مجھے شاید تو نہ پہچان سکو

    اے مری راتو میں ڈوبا ہوں گہن میں ایسا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY