میں ریزہ ریزہ بکھر کے ایسے سمٹ رہا ہوں

ساجد صفدر

میں ریزہ ریزہ بکھر کے ایسے سمٹ رہا ہوں

ساجد صفدر

MORE BYساجد صفدر

    میں ریزہ ریزہ بکھر کے ایسے سمٹ رہا ہوں

    کہ تھوڑا تھوڑا سبھی کے حصہ میں بٹ رہا ہوں

    میں ایک پتھر صفت زمانے سے ہوں مگر اب

    کسی کے آنسو کے چند قطروں سے کٹ رہا ہوں

    میں خوش ہوں اس کو دکھا رہا ہوں نئے مناظر

    مگر یہ دکھ بھی کہ اس کی نظروں سے ہٹ رہا ہوں

    مجھے یقیں ہے بچھڑنے والا یہیں ملے گا

    میں اپنے ماضی کے آج پنے پلٹ رہا ہوں

    ترے بدن سے غزل کی خوشبو سی آ رہی ہے

    سو تیرے دامن سے کچھ زیادہ لپٹ رہا ہوں

    عجیب ہے وہ کسی کی باہوں میں خوش بہت ہے

    عجیب ہوں میں جو نام اس کا ہی رٹ رہا ہوں

    بنانے والے مجھے قد آور بنا رہے ہیں

    میں ہوں کہ ساجدؔ جو اپنے قد سے بھی گھٹ رہا ہوں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY