میں سمجھتا تھا حقیقت آشنا ہو جائے گا

اختر ضیائی

میں سمجھتا تھا حقیقت آشنا ہو جائے گا

اختر ضیائی

MORE BYاختر ضیائی

    میں سمجھتا تھا حقیقت آشنا ہو جائے گا

    کیا خبر تھی میری باتوں سے خفا ہو جائے گا

    رفتہ رفتہ ابتلائے غم شفا ہو جائے گا

    درد ہی حد سے گزرنے پر دوا ہو جائے گا

    ہم پہ تو پہلے ہی ظاہر تھا مآل بندگی

    پوجنے جاؤ گے جس بت کو خدا ہو جائے گا

    تجربے کی آنچ سے آخر رقیب رو سیہ

    ان کی قربت سے ہمارا ہم نوا ہو جائے گا

    آہ جو سینے سے نکلے گی فغاں بن جائے گی

    اشک جو آنکھوں سے ٹپکے گا دعا بن جائے گا

    دم بدم جو ساتھ دینے کا کیا کرتا تھا عہد

    کس کو تھا معلوم کہ اک دن جدا ہو جائے گا

    چھوڑنے والے سر راہے ہمیں تیرے لیے

    زندگانی کا سفر بے مدعا ہو جائے گا

    اک نگاہ لطف وہ پہلی سی دل داری کے ساتھ

    دان کر دیجے غریبوں کا بھلا ہو جائے گا

    سہل تر ہوگا نجات خلق میں قرض وفا

    جان بھی دے گا اگر اخترؔ ادا ہو جائے گا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY