میں سراپا مظہر‌ اسم خدا واللہ ہوں

خواجہ محمد وزیر

میں سراپا مظہر‌ اسم خدا واللہ ہوں

خواجہ محمد وزیر

MORE BYخواجہ محمد وزیر

    میں سراپا مظہر‌ اسم خدا واللہ ہوں

    ہم صفیرو اس چمن میں مرغ بسم اللہ ہوں

    کس طرف جاؤں دکھا دو یا محمد راہ حق

    یاں ہر اک گمراہ کہتا ہے میں خضر راہ ہوں

    اے مسیحا تیری زلفوں کی درازی دیکھ کر

    کہتی ہی عمر خضر میں گیسوۓ کوتاہ ہوں

    آسماں پر بھی سیہ بختی میں ہے میرا دماغ

    خال روۓ مہر ہوں داغ‌ جبین ماہ ہوں

    کہہ رہی ہے آسماں سے یار کے گھر کی زمیں

    طور ہوں صحرائے ایمن ہوں تجلی گاہ ہوں

    بیٹھنا کیسا ادھر آیا ادھر راہی ہوا

    دن جو ہوں تو مختصر ہوں شب جو ہوں کوتاہ ہوں

    اللہ اللہ کیا ہے ان کے پاؤں کی ٹھوکر کا لطف

    ہے ہر اک بت کی تمنا کاش سنگ راہ ہوں

    روز محشر سے وزیرؔ افزوں ہے اس کافر کا طول

    اب بھی کہتی ہے شب فرقت بہت کوتاہ ہوں

    مآخذ:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY