میں شجر ہوں اور اک پتا ہے تو

عمران بدایوںی

میں شجر ہوں اور اک پتا ہے تو

عمران بدایوںی

MORE BYعمران بدایوںی

    میں شجر ہوں اور اک پتا ہے تو

    میری ہی تو شاخ سے ٹوٹا ہے تو

    شاعری میں روز طوفاں سے لڑا

    کیا سمندر میں کبھی اترا ہے تو

    صبح تک سہمی رہیں آنکھیں مری

    خواب کیسی راہ سے گزرا ہے تو

    کیا خبر کب ساتھ میرا چھوڑ دے

    آنکھوں میں ٹھہرا ہوا قطرہ ہے تو

    کچھ کمی شاید تری مٹی میں ہے

    جب سمیٹا دل تجھے بکھرا ہے تو

    وقت رخصت تو برا مت کہہ اسے

    عمر بھر اس جسم میں ٹھہرا ہے تو

    بزدلی کیول مرے اندر ہے کیا

    یوں مجھے حیرت سے کیوں تکتا ہے تو

    یہ تری سازش ہے یا پھر اتفاق

    میں جہاں ڈوبا وہیں ابھرا ہے تو

    جو اندھیرے میں کہیں گم ہو گیا

    سوچتا ہوں کیا وہی سایہ ہے تو

    کیا خبر مخبر ہوا کا ہو وہی

    اے دئیے جس کے لیے جلتا ہے تو

    زندگی نے پھر تجھے الجھا لیا

    میں نہ کہتا تھا ابھی بچہ ہے تو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY