میں تو چپ تھا مگر اس نے بھی سنانے نہ دیا

شاذ تمکنت

میں تو چپ تھا مگر اس نے بھی سنانے نہ دیا

شاذ تمکنت

MORE BYشاذ تمکنت

    میں تو چپ تھا مگر اس نے بھی سنانے نہ دیا

    غم دنیا کا کوئی ذکر تک آنے نہ دیا

    اس کا زہرابۂ پیکر ہے مری رگ رگ میں

    اس کی یادوں نے مگر ہاتھ لگانے نہ دیا

    اس نے دوری کی بھی حد کھینچ رکھی ہے گویا

    کچھ خیالات سے آگے مجھے جانے نہ دیا

    بادباں اپنے سفینہ کا ذرا سی لیتے

    وقت اتنا بھی زمانہ کی ہوا نے نہ دیا

    وہی انعام زمانہ سے جسے ملنا تھا

    لوگ معصوم ہیں کہتے ہیں خدا نے نہ دیا

    کوئی فریاد کرے گونج مرے دل سے اٹھے

    موقع درد کبھی ہاتھ سے جانے نہ دیا

    شاذؔ اک درد سے سو درد کے رشتے نکلے

    کن مصائب نے اسے جی سے بھلانے نہ دیا

    مأخذ :
    • کتاب : Kulliyat-e- Shaz Tamkanat (Pg. 378)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY