میں تم کو پوجتا رہا جب تک خودی میں تھا (ردیف .. د)

میر یٰسین علی خاں

میں تم کو پوجتا رہا جب تک خودی میں تھا (ردیف .. د)

میر یٰسین علی خاں

MORE BYمیر یٰسین علی خاں

    میں تم کو پوجتا رہا جب تک خودی میں تھا

    اپنا ملا سراغ مجھے بے خودی کے بعد

    کیا رسم احتیاط بھی دنیا سے اٹھ گئی

    یہ سوچنا پڑا مجھے تیری ہنسی کے بعد

    گھبرا کے مر نہ جائیے مرنے سے فائدہ

    اک اور زندگی بھی ہے اس زندگی کے بعد

    آئے ہیں اس جہاں میں تو جانا ضرور ہے

    کوئی کسی سے پہلے تو کوئی کسی کے بعد

    اے ابر نو بہار ٹھہر پی رہا ہوں میں

    جانا برس کے خوب مری مے کشی کے بعد

    مرتے تھے جس پہ ہم وہ فقط حسن ہی نہ تھا

    یہ راز ہم پہ آج کھلا عاشقی کے بعد

    اے موسم بہار ٹھہر آ رہا ہوں میں

    دامان چاک چاک کی بخیہ گری کے بعد

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY