میں زخم کھا کے گرا تھا کہ تھام اس نے لیا

فیصل عجمی

میں زخم کھا کے گرا تھا کہ تھام اس نے لیا

فیصل عجمی

MORE BY فیصل عجمی

    میں زخم کھا کے گرا تھا کہ تھام اس نے لیا

    معاف کر کے مجھے انتقام اس نے لیا

    میں سو گیا تو کوئی نیند سے اٹھا مجھ میں

    پھر اپنے ہاتھ میں سب انتظام اس نے لیا

    کبھی بھلایا کبھی یاد کر لیا اس کو

    یہ کام ہے تو بہت مجھ سے کام اس نے لیا

    نہ جانے کس کو پکارا گلے لگا کے مجھے

    مگر وہ میرا نہیں تھا جو نام اس نے لیا

    بہار آئی تو پھولوں سے ان کی خوشبو لی

    ہوا چلی تو ہوا سے خرام اس نے لیا

    فنا نے کچھ نہیں مانگا سوال کرتے ہوئے

    اسی ادا پہ خدا سے دوام اس نے لیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY