مری زندگی بھی مری نہیں یہ ہزار خانوں میں بٹ گئی

بشیر بدر

مری زندگی بھی مری نہیں یہ ہزار خانوں میں بٹ گئی

بشیر بدر

MORE BYبشیر بدر

    مری زندگی بھی مری نہیں یہ ہزار خانوں میں بٹ گئی

    مجھے ایک مٹھی زمین دے یہ زمین کتنی سمٹ گئی

    تری یاد آئے تو چپ رہوں ذرا چپ رہوں تو غزل کہوں

    یہ عجیب آگ کی بیل تھی مرے تن بدن سے لپٹ گئی

    مجھے لکھنے والا لکھے بھی کیا مجھے پڑھنے والا پڑھے بھی کیا

    جہاں میرا نام لکھا گیا وہیں روشنائی الٹ گئی

    نہ کوئی خوشی نہ ملال ہے کہ سبھی کا ایک سا حال ہے

    ترے سکھ کے دن بھی گزر گئے مری غم کی رات بھی کٹ گئی

    مری بند پلکوں پر ٹوٹ کر کوئی پھول رات بکھر گیا

    مجھے سسکیوں نے جگا دیا مری کچی نیند اچٹ گئی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے