مکڑیوں نے وقت کی کر دیا کمال سا

گلشن بیابانی

مکڑیوں نے وقت کی کر دیا کمال سا

گلشن بیابانی

MORE BYگلشن بیابانی

    مکڑیوں نے وقت کی کر دیا کمال سا

    میرے گرد بن دیا الجھنوں کا جال سا

    اس نئی صدی کا یہ کارنامہ خوب ہے

    سکھ کا ایک لمحہ ہے دکھ کے ایک سال سا

    پیٹھ پر لدا ہوا مسئلوں کا بوجھ ہے

    بن گیا ہے آدمی آج کل حمال سا

    دوستی کے وار سے ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا

    دل ہمارے سینے میں تھا کبھی جو ڈھال سا

    فکر و فن کی تشنگی کس طرح بجھاؤں میں

    بستی خیال میں لفظوں کا ہے کال سا

    موسم بہار ہے پر ابھی کھلا نہیں

    گلشنؔ حیات میں پھول بے مثال سا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY