منزلوں اس کو آواز دیتے رہے منزلوں جس کی کوئی خبر بھی نہ تھی

تاب اسلم

منزلوں اس کو آواز دیتے رہے منزلوں جس کی کوئی خبر بھی نہ تھی

تاب اسلم

MORE BYتاب اسلم

    منزلوں اس کو آواز دیتے رہے منزلوں جس کی کوئی خبر بھی نہ تھی

    دامن شب میں کوئی ستارہ نہ تھا شمع کوئی سر رہ گزر بھی نہ تھی

    اک بگولہ اٹھا دشت میں کھو گیا اک کرن تھی جو ظلمت میں گم ہو گئی

    زندگی جس کو سمجھے تھے ہم زندگی زندگی مثل رقص شرر بھی نہ تھی

    فصل گل سے تھا آباد صحن چمن فصل گل جو گئی رونقیں لٹ گئیں

    یوں خموشی سے شام خزاں آئے گی اہل گلشن کو اس کی خبر بھی نہ تھی

    اس طرح منزل آرزو کٹ گئی اس طرح یہ گھنی تیرگی چھٹ گئی

    اپنے پاؤں پہ یارو خراشیں تو کیا اپنے چہرے پہ گرد سفر بھی نہ تھی

    پھر سے آنکھوں کے ساغر چھلکنے لگے موج در موج آنسو نکلنے لگے

    تابؔ گھر میں وہ مہمان پھر آ گیا جس کے آنے کی کوئی خبر بھی نہ تھی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے