مقتل سے میرا کاسۂ سر کون لے گیا

ناظر صدیقی

مقتل سے میرا کاسۂ سر کون لے گیا

ناظر صدیقی

MORE BYناظر صدیقی

    مقتل سے میرا کاسۂ سر کون لے گیا

    اس تک یہ دل خراش خبر کون لے گیا

    چہرے پہ گرد راہ بھی باقی نہیں رہی

    مجھ سے مرا ثبوت سفر کون لے گیا

    راس آ چلی تھی دل کی فضائے جنون شوق

    بہکا کے مجھ کو دشت سے گھر کون لے گیا

    بے لوث دوستی کے زمانے کہاں گئے

    سرمایۂ خلوص بشر کون لے گیا

    یہ دیکھنے کی کوئی ضرورت نہیں رہی

    کس کا ہنر تھا داد ہنر کون لے گیا

    گھر سے نکل پڑے ہیں تو اب کیا یہ دیکھنا

    رستے سے سایہ دار شجر کون لے گیا

    دریا وہی ہے اس کی روانی وہی مگر

    روپوش تھا جو تہہ میں گہر کون لے گیا

    اعمال اپنے دیکھ کے یہ تجزیہ بھی کر

    ناظرؔ تری دعا سے اثر کون لے گیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY