مرحلے زیست کے دشوار ابھی ہو جائیں

سحر انصاری

مرحلے زیست کے دشوار ابھی ہو جائیں

سحر انصاری

MORE BYسحر انصاری

    مرحلے زیست کے دشوار ابھی ہو جائیں

    تاکہ ہم جینے کو تیار ابھی ہو جائیں

    یہ جو کچھ لوگ مرے چار طرف ہیں ہر وقت

    یار ہو جائیں کہ اغیار ابھی ہو جائیں

    جس کی تعبیر ہے اک خواب میں چلتے رہنا

    کیوں نہ اس خواب سے بیدار ابھی ہو جائیں

    جانے پھر کوئی ضرورت بھی رہے یا نہ رہے

    جن کو ہونا ہے وہ غم خوار ابھی ہو جائیں

    کوئی تصویر سجا لے گا تو کوئی تحریر

    کیوں نہ ہم نقش بہ دیوار ابھی ہو جائیں

    زندگی خود کو بچانا ہے کہ جاں دینا ہے

    فیصلے یہ بھی ہیں کہ وار ابھی ہو جائیں

    ایک لمحے میں بدل سکتے ہیں حالات سحرؔ

    آپ اگر شامل دربار ابھی ہو جائیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY